ہفتہ 14 فروری 2026 - 22:16
ہندوستان میں وندے ماترم کے لازمی نفاذ پر تنازعہ؛ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا سخت اعتراض، نوٹیفیکیشن واپس لینے کا مطالبہ

حوزہ/ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری اُس نوٹیفیکیشن پر سخت اعتراض درج کیا ہے جس کے تحت سرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے جن گن من سے قبل ’’وندے ماترم‘‘ کے تمام اشعار پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کو غیر دستوری، مذہبی آزادی کے منافی اور سیکولر اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری اُس نوٹیفیکیشن پر سخت اعتراض درج کیا ہے جس کے تحت سرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے جن گن من سے قبل ’’وندے ماترم‘‘ کے تمام اشعار پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کو غیر دستوری، مذہبی آزادی کے منافی اور سیکولر اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے ایک پریس بیان میں کہا کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہے بلکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلوں سے بھی متصادم ہے۔ ان کے بقول ایک سیکولر ریاست کسی مخصوص مذہبی پس منظر رکھنے والی نظم یا عقیدے کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر جبراً مسلط نہیں کرسکتی۔

مولانا مجددی نے وضاحت کی کہ آزادی کے بعد دستور ساز اسمبلی کی بحثوں اور مشاورت کے نتیجے میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ ’’وندے ماترم‘‘ کے صرف ابتدائی دو بند ہی قابل قبول ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظم کے دیگر اشعار میں دیوی دیوتاؤں کی مدح و ثنا اور پوجا کا ذکر آتا ہے، جو مسلمانوں کے عقیدۂ توحید سے متصادم ہے۔ اسلام میں اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت بنیادی عقیدہ ہے اور کسی بھی نوع کی شرک کی گنجائش نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملکی عدالتوں نے بھی ماضی میں اس کے بعض حصوں کو لازمی قرار دینے کے خلاف رائے دی ہے، اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ عدالتی نظائر اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لے۔ بصورت دیگر بورڈ اس نوٹیفیکیشن کو عدالت میں چیلنج کرنے پر مجبور ہوگا۔

بورڈ کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے ملک کی مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام طبقات کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جو آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کے اصولوں سے متصادم ہو۔

بیان کے اختتام پر بورڈ نے واضح کیا کہ وہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے موقف کا دفاع کرے گا اور اس سلسلے میں قانونی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha